نئی دہلی،7؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں 26.5 کروڑ لوگوں کے سامنے بھکمری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے- اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی تقریباً ایک کروڑ20؍لاکھ لوگوں کے سامنے یہی حالت پیدا ہوگئی ہے- ایک مطالعہ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے -
سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (سی ایس ای) کی جانب سے شائع ’اسٹیٹ آف انڈیا زانوائرنمنٹ ان فگرس 2020“ پورٹ میں وبا کے بڑے پیمانے پر ہونے والے اقتصادی اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے- اس رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر غربت کی شرح میں 22 سالوں میں پہلی بار اضافہ ہوگا- رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی آبادی کا 50فیصدی لاک ڈاؤن میں ہے - جن کی آمدنی یا تو بہت کم ہے یا ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے-آمدنی کا ذریعہ ختم ہوجانے سے چار سے چھ کروڑ لوگ آنے والے مہینوں میں غریبی میں زندگی بسرکریں گے- رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی غریب آبادی میں 1 کروڑ 20 لاکھ لوگ اورجڑجائیں گے جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے-
سی ایس ای کی ڈائرکٹر جنرل سینتانارائن کے مطابق، پچھلے چار سالوں میں ہوئے موسمی تغیرات کے واقعات دنیا بھر کے اقتصادی جوکھم میں سب سے آگے ہیں - انہوں نے کہا کہ ہماری یک طرفہ اور خراب ترقیاتی حکمت عملی کے ساتھ اس کا اثر ہندوستان کے غریبوں پر بہت زیادہ ہوا ہے اور کورونا وائرس کااثر بھی اب اس بدقسمتی کے ساتھ جڑ گیا ہے- نارائن نے کہا کہ سی ایس ای کے نئی اشاعت میں انہی باتوں کو واضح طو رپر کہا گیا ہے- اس کو آن لائن سیمینار میں جاری کیا گیا- اس میں 300لوگوں نے حصہ لیا- گزشتہ اپریل کے مہینے میں اقوام متحدہ نے بھی کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھکمری کے شکار لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے-
ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزی کیٹیو ڈائرکٹر ڈیوڈ بیسلے نے کہا تھا کہ پوری دنیا میں ہر رات 82کروڑ10لاکھ لوگ بھوکے پیٹ سوتے ہیں - اس کے علاوہ13/کروڑ 50 لاکھ لوگ بھکمری یا اس سے بھی بری حالت کا سامنا کررہے ہیں - انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تجزیہ میں پتہ چلا ہے کہ 2020 کے آخر تک 13کروڑ اور لوگ بھکمری کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں - اس طرح بھکمری کا سامنا کررہے لوگوں کی کل تعداد بڑھ کر 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے-
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی لیبر یونٹ نے وارننگ دی تھی کہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے ہندوستان میں ان آرگنائزڈ سیکٹر میں کام کرنے والے لگ بھگ 40کروڑ لوگ غریبی میں پھنس سکتے ہیں اور اندازہ ہے کہ اس سال دنیا بھر میں 19.5 کروڑ لوگوں کی کل وقتی ملازمت چھوٹ سکتی ہے- انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے اپنی رپورٹ آئی ایل او نگرانی سکینڈ ایڈیشن: ”کووڈ19- اور عالمی کام کاج“میں کورونا وائرس بحران کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے خوفناک بحران بتایا تھا-